نئی دہلی، 12؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )سی بی آئی کے پاس اس سال فروری تک جانچ کے تحت کل 1174معاملے زیر التوا تھے، جن میں سے 108معاملے آمدنی سے زیادہ جائیداد کے اور 223معاملے دھوکہ دہی یا جعل سازی کے ہیں۔پرسنل اور پی ایم او میں وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ فروری 2017تک سی بی آئی کے پاس جانچ کے تحت 1174معاملے زیر التوا تھے،ان میں 108معاملے آمدنی سے زیادہ اثاثہ کے اور 223معاملے دھوکہ دہی یا فراڈ کے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان 1174معاملات میں 157معاملے دو سال سے زیادہ عرصے سے، 36معاملے پانچ سال سے زیادہ عرصے سے، 6 معاملے 10سال سے زیادہ عرصے سے اور 2 معاملے 15سال سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔مرکزی وزیرمملکت نے گزشتہ تین سالوں میں سی بی آئی کے مقدمات میں قصور وار ٹھہرائے جانے کی شرح کی تفصیلات بھی دی ، جس کے مطابق، یہ شرح 2016میں 66.8فیصد، 2015میں 65.1فیصد اور 2014میں 69.2فیصد رہی۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے قصوروار ٹھہرائے جانے کی شرح میں اصلاحات کے لیے کئی قدم اٹھایا ہے ، جن سی بی آئی کے کام کاج کو بہتر بنانا ، جانچ ایجنسی کی تجدید کاری ، تربیت کی سطح بڑھانا ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی ، سرکاری وکلاء کے اضافی عہدے پیدا کرنے اور مرکزی فارنسک سائنس لیبارٹری(سی ایف ایس ایل)وغیرہ شامل ہیں۔